بھارت میں کاکروچ پارٹی اب الیکشن کمشنر کے خلاف جیل بھرو تحریک لیکر نکل آئی
شعورنیوز( انٹرنیشنل ڈیسک): ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ بھارتی الیکشن کمشنر کے خلاف 13 کروڑ ووٹروں کے نام نکالنے کے خلاف بڑا محاذ لیکر سرگرم ہوگئی ہے ۔بھارتی دار الحکومت نئی دہلی اور ممبئی شہر میں ایک بار پھر عوامی احتجاج کا محاذ گرم ہوگیا ہے۔ بھارتی ووٹر لسٹوں میں ہیرا پھیری سے قریباً 13 کروڑ ووٹرز کے نام ووٹر لسٹوں سے حذف کرنے کا معاملہ ملک بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔اس میں بڑی تعداد مسلمان ووٹروں کی ہے۔ایک سیکولر کہلائے جانے والے ملک میں سیکولر تحریکیں مستقل نظام کو ایکسپوز کر رہی ہیں۔اس معاملے کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اپنے احتجاجی مظاہرے میں بھارتی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کے مطالبے سے آگے بڑھایا ہے۔تحریک کا مؤقف ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے نام لسٹوں سے نکالنا جمہوریت پر براہِ راست حملہ ہے۔ اس عمل سے مسلم اکثریتی ریاستوں اور غریب طبقات کو شدید نشانہ بنایا گیا ہے جس کا فائدہ مبینہ طور پر برسرِاقتدار جماعت (بی جے پی) کو پہنچے گا۔ یہ مطالبہ بتا رہا ہے کہ ڈیموکریسی بھی اپنی اصل میں ایک جھوٹ اور سیکولر ازم بھی ایک دھوکہ ہے۔کاکروچ پارٹی کا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار فوری استعفیٰ دیں، موجودہ نظرثانی کے عمل کو فوراً روکا جائے، 2025ء کی پرانی ووٹر لسٹوں کو بحال کیا جائے اور الیکشن کمشنرز کی تقرری کے لیے زیادہ شفاف اور آزاد طریقہ کار اپنایا جائے۔اس مطالبے کے حق میں کاکروچ پارٹی نے 2 اکتوبر 2026ء سے ممبئی کے شیواجی پارک اور نئی دہلی کے جنتر منتر سمیت پورے بھارت میں "جیل بھرو تحریک" اور بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کر دیا ہے۔ اس احتجاج میں نصیر الدین شاہ اور شبانہ اعظمی جیسی معروف شخصیات اور ہزاروں طلبہ بھی شامل ہو چکے ہیں۔الیکشن کمیشن نے 13 کروڑ کی یہ وضاحت کی ہے کہ قریباً 6.3 کروڑ ووٹرز: وہ لوگ ہیں جو کام یا نوکری کے سلسلے میں مستقل طور پر اپنی ریاست یا پتہ تبدیل کر چکے ہیں قریباً 3 کروڑ ووٹرز: وہ ہیں جو اپنے دیے گئے پتوں پر موجود نہیں تھے یا جن کا سراغ نہیں مل سکا ۔قریباً 2.8 کروڑ ووٹرز: وہ افراد ہیں جو وفات پا چکے ہیں ۔قریباً 1 کروڑ ووٹرز: وہ ہیں جن کا نام ایک سے زیادہ جگہوں پر درج تھا۔مگر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ بہت سے ایسے حقیقی ووٹرز، جو اپنے گھروں پر موجود تھے اور جن کے پاس تمام دستاویزی ثبوت بھی تھے، ان کے نام بھی الگ الگ تکنیکی بنیادوں پر لسٹوں سے اڑا دیے گئے۔ناقدین اور سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ محض ایک انتظامی غلطی نہیں، بلکہ بھارتی سیکولر جمہوریت کے ڈھانچے کے اندر موجود گہری ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔بھارتی آئین کا سیکولر چہرہ اب صرف کاغذ کی حد تک محدود دکھائی دیتا ہے، کیونکہ عملی طور پر ریاست کا پورا نظام اکثریتی ہندوتوا سوچ کے تابع ہوتا جا رہا ہے۔