سائبر حملہ: فرانس کی سپر مارکیٹوں کے فریج بے قابو ، کروڑوں یورو کی خوراک تباہ
شعور نیوز( انٹرنیشنل ڈیسک):فرانس میں سائبر حملے نے سپر مارکیٹوں کے ریفریجریٹرز اور فریزرز کو نقصان پہنچانے والے آلات میں تبدیل کردیا، جہاں درجۂ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ اس سے فریزر میں رکھی گئی آئس کریم اور دیگر خوراک خراب ہوگئی، بڑے پیمانے پر اشیائے خورونوش تلف کرنا پڑیں اور آگ لگنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ فرانس میں سپر مارکیٹس میں پڑی فریجوں کا درجہ حرارت جس سافٹ ویئر سے کنٹرول ہوتا تھا، اسے چند ہیکروں نے ہیک کر کے درجہ حرارت پچاس ڈگری تک پہنچایا جس سے راتوں رات کروڑوں یوروز کی اشیائے خورد و نوش ضائع ہو گئیں۔ سپر مارکیٹوں میں بڑے پیمانے پر ریفریجریشن نظام عموماً ایسے کنٹرول پینلز سے چلتے ہیں جنہیں انٹرنیٹ کے ذریعے دور بیٹھ کر بھی چلایا اور ان کی مرمت یا درجۂ حرارت کی ترتیب تبدیل کی جاسکتی ہے۔ اسی سہولت نے نظام کو سائبر حملے کے خطرے سے دوچار کردیا۔ذرا تصور کریں، آپ کی گاڑیاں، موبائل فونز، گھر کے کمروں میں پڑی ہر طرح کی مشینیں، ہسپتال میں انسانوں کی زندگی بچانے والے آلات، یہ سب دھیرے دھیرے آٹومیشن اور مکمل سافٹ ویئر کنٹرول میں جا رہے ہیں۔ ملٹری ٹیکنولوجی بھی ساری سافٹ ویئر پر ہے۔ بارود، بم، میزائلوں کے کنٹرول سمیت۔ جب دجال کی طاقت سے متعلق احادیث صحابہ کرام ؓ کو سننے کو ملتی تھیں تو وہ حیران ہوتے تھے لیکن آج اے آئی اور انٹرنیٹ/سافٹ ویئر کے سامنے معاملات واضح ہو رہے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ اس کے باوجود دور جدید سے عبرت اور فتنہ سمجھنے کے بجائے سب اسکو فخر سے قبول کرتے ہیں۔ دوسری جانب یہ ڈیجیٹل ترقی کا نیا خطرہ ہے کیونکہ جب بنیادی ضروریات کا کنٹرول انٹرنیٹ سے جڑ جائے تو ایک سائبر حملہ پوری سپلائی چین کو مفلوج کرسکتا ہے۔یہ واقعہ ڈیجیٹل معیشت کے ایک بنیادی تضاد کو نمایاں کرتا ہے۔ بڑی کمپنیوں کے لیے انٹرنیٹ سے جڑے خودکار نظام اخراجات کم کرنے، نگرانی بہتر بنانے اور دور بیٹھ کر آلات چلانے کا ذریعہ ہیں، لیکن جب خوراک جیسی بنیادی ضرورت کا تحفظ بھی انہی نظاموں پر منحصر ہوجائے تو سافٹ ویئر کی ایک کمزوری ہزاروں صارفین کے لیے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔فرانسیسی پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق کئی بڑی فوڈ ریٹیل کمپنیوں کے انٹرنیٹ سے منسلک ریفریجریشن نظام اس حملے سے متاثر ہوئے۔ وزیراعظم سیباسٹیاں لیکورنو نے قومی سائبر سکیورٹی ادارے ANSSI کو تحقیقات کی ہدایت کردی۔فرانسیسی سپر مارکیٹ چین کارفور نے اپنے 80 اسٹورز متاثر ہونے کی تصدیق کی، جبکہ انٹرمَارشی کے مالک لی موسکیتیرز کے مطابق تقریباً 150 اسٹورز کے فریج چھ گھنٹے تک رات کے دوران 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم ہوگئے۔ کمپنی نے صحت عامہ کے خطرات سے بچنے کے لیے متاثرہ خوراک تلف کردی۔ پیرس میں ایک انٹرمَارشی اسٹور کے باہر ملازمین کو پگھلی ہوئی آئس کریم اور خراب شدہ منجمد خوراک بڑی مقدار میں کوڑے دانوں میں پھینکتے دیکھا گیا۔ مونوپری کے مطابق اس کے تقریباً پانچ فیصد اسٹورز متاثر ہوئے، جبکہ دیگر ریٹیل گروپس نے بھی سائبر حملے کی اطلاع دی۔انٹرمَارشی کے چیف ایگزیکٹو تھیری کوتیار نے فرانسیسی ٹی وی چینل BFM TV کو بتایا کہ اس حملے سے ملک بھر میں ایک ہی دن کے دوران دسیوں ملین یورو کے نقصان کا خدشہ ہے۔ یہ نقصان صرف کمپنیوں کے مالی حسابات تک محدود نہیں؛ اس میں ضائع ہونے والی خوراک، توانائی، سپلائی چین میں خلل اور صارفین کی خوراک کے تحفظ سے متعلق خطرات بھی شامل ہیں۔فرانس نے یورپی ممالک کے ساتھ رابطہ بھی کیا کیونکہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ دوسرے ملک بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ سائبر خطرات کے تجزیہ کار فیلکس ایمے کے مطابق اسپین، پرتگال، پولینڈ، جرمنی اور بیلجیم میں بھی اثرات سامنے آئے۔اس واقعے میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ ڈیجیٹل ترقی کا فائدہ کمپنیوں کو ملتا ہے، لیکن اس کے خطرات کا بوجھ صارفین، ملازمین اور وسیع تر سپلائی چین کو بھی اٹھانا پڑسکتا ہے۔ جب خوراک کا تحفظ ایک نیٹ ورک سے جڑ جائے تو سائبر سکیورٹی محض آئی ٹی شعبے کا مسئلہ نہیں رہتی، بلکہ عوامی تحفظ اور قومی غذائی سلامتی کا معاملہ بن جاتی ہے۔