برطانیہ میں گرمی کی شدت سے عمارتیں دھنسنا شروع
شعور نیوز(انٹرنیشنل ڈیسک):لندن کے مختلف حصوں میں شدید گرمی اور خشک سالی کے باعث زمین دھنسنے لگی ، مکانات کی دیواروں میں دراڑیں پڑ نا شروع ، دروازے جام اور کھڑکیاں ٹیڑھی ہونے لگی ہیں۔یورپ میں رواں برس شدید گرمی نے جہاں برطانیہ سمیت کئی ممالک میں معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے وہیں یہ نیا اور سنگین مسئلہ بھی سامنے آیا ہے۔ یورپ کو سال 2026 کے دوران موسمِ گرما میں غیر معمولی اور شدید ترین گرمی کی لہر کا سامنا رہا ہے اور مختلف ممالک میں دیگر نقصانات کے علاوہ 1300 سے زائد ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ان ممالک میں برطانیہ بھی شامل ہے، جہاں عام طور پر شدید گرمی کئی طرح کے مسائل پیدا کرتی ہے۔ اسکول بند ہوتے ہیں، ریلوے لائنز جام ہوجاتی ہیں اور اب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث کئی علاقوں میں گھروں کے زمین میں دھنسنے کا مسئلہ بھی تیزی سے سر اٹھا رہا ہے، اس عمل کو سائنسی زبان میں ’سبسائیڈنس‘ کہا جاتا ہے۔اس کی وجہ غیر معمولی گرمی اور خشک موسم کے باعث شہر کی مٹی میں نمی کی کمی ہے جس کے نتیجے میں زمین اپنی ساخت تبدیل کرکے سکڑ رہی ہے اور اس کے ساتھ عمارتوں کی بنیادیں بھی متاثر ہورہی ہیں۔لندن سمیت برطانیہ کے کئی حصوں میں تعمیرات ’چکنی مٹی‘ پر قائم کی گئی ہیں۔ یہ مٹی گیلے ہونے پر فوم کی طرح پانی چوس کر پھیلتی ہے، لیکن گرم اور خشک موسم میں سکڑ جاتی ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والا یہ مسئلہ اب لوگوں کی زندگیوں میں مسلسل ذہنی اور مالی پریشانی کا سبب بن رہا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق اس صورت حال سے پرانی عمارتیں زیادہ متاثر ہو رہی ہیں کیونکہ ان کی بنیادیں زیادہ گہری نہیں ہیں۔واضح رہے کہ لندن کے نصف سے زائد مکانات 1945 سے قبل تعمیر کیے گئے تھے۔ برطانوی انشورنس کمپنی ’اویوا‘ کے اعداد و شمار کے مطابق 2030 تک کینسنگٹن، سٹی آف لندن اور ویسٹ منسٹر سمیت وسطی لندن کے کئی علاقوں میں 100 فیصد تعمیرات کو اس خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے۔برطانوی انشورنس کمپنی ’اویوا‘ کا 2030 تک متوقع ’سبسائیڈنس‘ کے حوالے سے جاری کردہ نقشہ تعمیراتی ماہرین کے مطابق اب یہ مسئلہ صرف لندن تک محدود نہیں رہا بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث برطانیہ کے دیگر حصے بھی اس کی زد میں آ رہے ہیں۔زمین دھنسنے کے ان واقعات کے باعث ملک میں انشورنس کلیمز میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن آف برٹش انشوررز کے مطابق 2025 کے غیر معمولی گرم موسم میں انشورنس انڈسٹری نے 41 کروڑ 15 لاکھ ڈالر کے ریکارڈ کلیمز ادا کیے تھے۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی میں اب تک 9 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ادا کیے جا چکے ہیں، جبکہ اوسط کلیم کی رقم 27 ہزار ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلیاں اسی طرح جاری رہیں اور کلیمز بڑھتے رہے، تو مستقبل قریب میں انشورنس کمپنیاں اس خطرے کے کلمیز ادا کرنے سے انکار کر سکتی ہیں۔برطانوی جیولوجیکل سروے نے خبردار کیا ہے کہ اگر گلوبل وارمنگ موجودہ رفتار سے جاری رہی تو 2070 تک صرف لندن میں 26 فیصد سے زائد جائیدادیں متاثر ہو سکتی ہیں۔اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فی الحال درختوں کو ہٹانے اور انکی جڑوں کو بنیادوں تک پہنچنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرنے یا بنیادوں کے نیچے کنکریٹ بھرنے جیسے مہنگے حل تجویز کیے جا رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انسان فوسل فیولز جلانے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں اور عالمی درجہ حرارت بڑھتا رہتا ہے تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔یہ وہ جدید سائنسی ترقی کی پھیلائی تباہی ہے جسے انسانوں نے آسانی، آسائش کے نام پر قبول کیا اور آج قدرت نے رد عمل دے کر سب ٹھکانے لگا دیا ہے۔