سابق برطانوی رکن پارلیمنٹ اور سیاسی رہنما کو بچوں سے جنس کاری اور عصمت دری کے جرم میں 15 سال قید
شعور نیوز ( انٹرنیشنل ڈیسک):شمالی آئرلینڈ کے سابق مشہور سیاستدان اور ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی (DUP) کے سابق سربراہ 63 سالہ جیفری ڈونلڈسن کو 2 کمسن بچیوں کے ساتھ کئی سالوں تک جنسی زیادتی، بدفعلی اور عصمت دری کا جرم ثابت ہونے پر 15 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ یہ دردناک مظالم 1985ء سے 2008ء کے دوران ڈھائے گئے، جبکہ ان کی بیوی بھی ان سائے جیسے جرائم کو چھپانے اور شوہر کا ساتھ دینے میں ملوث رہیں۔ یہ واقعہ مغرب کی ظاہری چمک دمک اور تہذیبی و انسانی حقوق کے حقوق العباد کے دعوؤں کے پیچھے چھپے اخلاقی بگاڑ، درندگی اور سفاکیت کی ایک الم ناک تصویر پیش کرتا ہے۔ان جرائم کا تعلق دو خواتین سے ہے جب وہ بچیاں تھیں، جن میں عصمت دری (ریپ) کا ایک کیس، بے ہودہ و غیر اخلاقی حملے (انڈیسنٹ اسالٹ) کے 13 کیسز اور شدید بے حیائی (گروس انڈیسنسی) کے 4 کیسز شامل ہیں۔جیفری ڈونلڈسن اور ان کی wife کو مارچ 2024ء میں گرفتار کر کے ان پر چارجز عائد کیے گئے تھے۔بیوی (ایلینور ڈونلڈسن) کی شدید جسمانی یا ذہنی بیماری کی وجہ سے طبی ماہرین نے انہیں "فٹ ٹو اسٹینڈ ٹرائل" (مقدمے کا سامنا کرنے کے قابل) قرار نہیں دیا تھا۔ اس لیے ان پر باقاعدہ فوجداری مقدمہ (Criminal Trial) نہیں چلایا جا سکا اور نہ ہی عام مجرموں کی طرح سزا سنائی گئی۔جیفری ڈونلڈسن کو جون میں متفقہ طور پر مجرم قرار دیا گیا اور اکتوبر 2024ء میں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی۔