ہائی کورٹ نے صارفین کو سرمایہ دارانہ ریلیف دے دیا
شعور نیوز( ویب ڈیسک):سندھ ہائی کورٹ نے پرائیویٹ اسکولز کی جانب سے جون، جولائی کی فیس اور کتابیں اور یونیفارم کی فیس ایک ساتھ وصول کرنے سے روک دیا۔سرمایہ دارانہ نظام میں اس کی اصلاح کرنے اور ایک منظم انداز سے چلانے کے لیے کچھ ادارے کنٹرول بھی کرتے ہیں جسے عوامی ریلیف سمجھا جاتا ہے۔ہائیکورٹ میں پرائیویٹ اسکولز کی جانب سے جون، جولائی کی فیس اور کتابیں اور یونیفارم کی خریداری کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت میں سرکاری وکیل اور پرائیویٹ اسکول ڈائریکٹوریٹ کا نمائندہ پیش ہوئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ پرائیویٹ اسکول کی جانب سے موسم گرما کی چھٹیوں کی فیس کی وصولی خلاف قانون ہے، چھٹیوں کی فیس وصولی کے لیے ایک ساتھ بچوں کو دو دو واؤچر تھما دیئے جاتے ہیں، چھٹیوں میں اسکول کی طرف کوئی سرگرمی نہیں ہوتی اس لیے یہ فیس وصول نہیں کرسکتے لیکن اسکول انتظامیہ اپریل سی ہی چھٹیوں کی فیس وصولی کے نوٹس دینا شروع کردیتی ہے۔عدالت نے اسکول کو ایک ساتھ فیس وصول کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ چھٹیوں کی فیس وصولی کا نوٹس مئی میں دیا جائے۔ جون اور جولائی کی چھٹیوں کی فیس وصولی کے لیے علیحدہ علیحدہ 30 جون اور 30 جولائی تک کا وقت دیا جائے، یونیفارم اور کتابوں کا معاملہ پرائیویٹ اسکول ڈائریکٹوریٹ اور فریقین بیٹھ کر حل کریں، آئندہ دو ہفتوں میں فریقین کتابوں اور یونیفارم کے معاملے پر میٹنگ کریں۔عدالت نے پرائیویٹ اسکولز ڈائریکٹوریٹ اور دیگر کو ہدایت دیتے ہوئے درخواست نمٹادی۔مزید برآں، یونیفارم اور کتابوں کی فروخت کے تنازع پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ نجی اسکولوں کا ڈائریکٹوریٹ اور فریقین باہمی مشاورت سے اس معاملے کو حل کریں۔ اس سلسلے میں فریقین کو آئندہ 2 ہفتوں کے اندر میٹنگ کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے عدالت نے کیس نمٹا دیا۔دوسری جانب کوئٹہ میں بھی ضلعی انتظامیہ نے بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں سخت اقدامات کیے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر ویسٹ منیر احمد درانی نے نجی اسکولوں میں چھٹیوں کے دوران فیس کی وصولی پر باضابطہ پابندی عائد کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ حکام کے مطابق جو نجی اسکول احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چھٹیوں کی فیس وصول کریں گے، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ایسے اسکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کر کے انہیں سیل کر دیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے والدین کو ہدایت کی ہے کہ وہ چھٹیوں کی فیس سے متعلق اپنی شکایات فوری طور پر ضلعی دفتر یا متعلقہ محکمہ تعلیم کے حکام کو جمع کروائیں۔