دنیا بھر میں یہودی خواتین اپنے قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں تشدد کا شکار
شعورنیوز( انٹرنیشنل ڈیسک):برطانیہ میں یہودی خواتین اور لڑکیوں کو خانگی تشدد اور جنسی استحصال سے تحفظ فراہم کرنے والی واحد تنظیمی چیریٹی "جیوش وومنز ایڈ" (Jewish Women's Aid - JWA) کے سربراہان نے خبردار کیا ہے کہ مذہبی تہواروں اور ایامِ مقدسہ کے دوران گھریلو تشدد کی شکار خواتین کی نجی و جسمانی سیکیورٹی شدید خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ چیریٹی کے مطابق تہواروں کے موقع پر خاندانی تقاریب، بند دروازے، مالی دباؤ اور مذہبی پابندیوں کے باعث متاثرہ خواتین شدید تنہائی کا شکار ہو جاتی ہیں اور ظالم شریکِ حیات کے چنگل سے نکلنا یا مدد طلب کرنا ان کے لیے مزید دشوار ہو جاتا ہے۔(قابض) اسرائیل وومنز نیٹ ورک (IWN) کی رپورٹ "دی گریٹ وومنز سروے 2026" کے مطابق، اسرائیل میں ہر 4 میں سے 1 سے زائد خواتین (جوکہ تقریباً 27٪ یعنی 9 لاکھ سے زائد ہیں) اپنے شریکِ حیات یا قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں جسمانی، معاشی، یا نفسیاتی تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔اسرائیل آبزرویٹری آن فیمیسائیڈ (IOF) کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران اسرائیل میں عورت ہونے کی وجہ سے قتل کے واقعات میں 48 فیصد اضافہ ہوا۔قابض اسرائیلی ریاست میں یہودی عورت کا طلاق لینا انتہائی مشکل کام ہے ، خلع کا کوئی تصور نہیں اس لیے وہاں عورت مستقل ظلم کا شکار رہتی ہے۔یہودی معاشرے اور بالخصوص قابض اسرائیل کے اندر گھریلو تشدد اور خاندانی ٹوٹ پھوٹ کا بڑھتا ہوا بحران عالمی میڈیا پر سامنے آرہا ہے۔رپورٹ کی سربراہ پروفیسر شالوا ویل کے بقول "اسرائیلی معاشرہ، یورپ اور امریکہ کے معاشروں کی طرح، ایک پرتشدد معاشرہ بن چکا ہے۔" واضح رہے کہ یہ اضافہ یہودی اور عرب، دونوں کمیونٹیز میں دیکھا گیا: یہودی خواتین کے کیسز 8 سے بڑھ کر 18 ہوئے جبکہ عرب سیکٹر میں 11 سے بڑھ کر 13 ہو گئے۔گھریلو تشدد جدید دنیا کے تمام حصوں میں خاندان کی تباہی کے ساتھ داخل ہو رہا ہے ۔ ماہرینِ عمرانیات استدلال کرتے ہیں کہ جدید سرمایہ دارانہ نظام رشتوں کی اقدار کا خاتمہ کردیتا ہے ۔ یہودیوں نے جعلی مذہبی شناخت لیکر مسلمانوں کی زمین پر قبضہ کرکے ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ۔دوسری طرف جدیدیت سے پیدا شدہ بے لگام سرمایہ داری اور صیہونی ریاست کے سیاسی ڈھانچے نے مل کر ایک ایسے نظام کو جنم دیا ہے جس نے اُن کے خاندانی اقدار اور معاشرتی تحفظ کو بھی کھوکھلا کر دیا ہے۔ جدید قابض اسرائیل اور مغربی یہودی برادریاں خواہ دنیا کے کسی خطے میں ہوں وہ لبرل بننے کی دوڑ میں سب کچھ تباہ کررہے ہیں۔مخصوص سیاہ لباس میں اُن کے مذہبی رہنما یہودیوں کو مذہب کی جانب متوجہ کرتے رہتے ہیں لیکن سرمایہ دارانہ صیہونیت کا جنون پوری طرح غالب ہو چکا ہے۔اسرائیل کا معاشرہ صیہونی عسکریت پسندی پر قائم ہے، جہاں طاقت، تشدد اور جبر کی ثقافت کو روزمرہ کی زندگی میں جذب کر دیا گیا ہے۔ جو ریاست خود دہائیوں سے مظلوموں پر تشدد اور جبر کی پالیسی اپنائے ہوئے ہو، اس کے اندرونی خاندانی نظام میں تشدد، طاقت کا بے جا استعمال اور مظلوم کا استحصال سرائیت کر جانا ایک قدرتی امر ہے۔