عورت سے مرد بننے والے ٹرانس داماد کو ساس سسرنے ہی قتل کردیا
شعورنیوز(انٹرنیشنل ڈیسک):امریکہ میں نیویارک ٹائمز کے 40 سالہ سینئر افسر جوناتھن کو جنس بدلنے پر اس کے 77 سالہ ساس سسر نے دن دہاڑے پارکنگ لاٹ میں گولیاں مار کر قتل کر دیا۔پولیس کے مطابق شو یونگ ژانگ اور شلی چین نامی عمر رسیدہ جوڑے نے کیلیفورنیا کے شہر ڈبلن میں واقع ڈبلن اسپورٹس گراؤنڈز کی پارکنگ لاٹ میں 40 سالہ جوناتھن میک کِنسی کو نشانہ بنایا۔مقتول جوناتھن اعلیٰ تعلیم یافتہ ، تصور آزادی میں ڈوبی ہوئی تھی ، وہ اصل میں عورت تھی جس نے 2010 میں اپنے آپ کو مرد میں تبدیل کرایا تھا پھر اگلے سال 2011 میں ایک حقیقی لڑکی سے شادی کی تھی۔شادی کے بعد سائنسی طریقے سے انہوں نے تین بچے بھی پیدا کرے ۔ گذشتہ سال ساس سسر کے طعنوں اور گھریلو ماحول پیچیدہ ہوجانے کی وجہ سے اُس نے رشتہ ختم کرنے اور بچے لینے کے لیے کورٹ سے رجوع کیا ہواتھا ۔میک کِنسی 2023 سے نیویارک ٹائمز میں گیمز پلیئر ایکسپیرینس کے ہیڈ آف انجینئرنگ کے طور پر فرائض انجام دے رہاتھا اور متعدد گولیاں لگنے سے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔چشم دید گواہوں نے بتایا کہ انہوں نے 2 نقاب پوش حملہ آوروں کو میک کِنسی کے پاس آتے دیکھا جنہوں نے باری باری ان پر فائرنگ کی اور پھر اطمینان سے وہاں سے پیدل چلے گئے۔ پولیس نے تصدیق کی کہ ملزمان کو قریب ہی موجود شواہد کی بنیاد پر ایک سارجنٹ نے پکڑ لیا اور بعد میں پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ 77سالہ ساس سسر ژانگ اور چین کو ’الامیڈا کاؤنٹی ‘کی جیل میں بغیر ضمانت رکھا گیا ہے ۔ان پر قتل، سازش، بچوں کو خطرے میں ڈالنے اور غیر قانونی طور پر اسلحہ چلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔امریکی ا دی ایسٹ بے ٹائمز کے مطابق ٹرانس جینڈر ہونے کی وجہ سے میک کِنسی نے عدالت میں دائر کی گئی درخواستوں میں الزام لگایا تھا کہ ان کی ساس نے ان کے اور ان کے ایک بچے کے خلاف ایل جی بی ٹی کیو مخالف نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔ یہ قتل میک کِنسی اور کینڈیس کی طلاق کے کیس کی سماعت سے صرف ایک ہفتہ قبل پیش آیا اور اس جوڑے کے 3 کم سن بچے ہیں۔ کینڈیس نے 2023 میں میک کِنسی کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کرائی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے بچوں میں سے ایک کو دھکا دیا اور ان کے ساتھ جسمانی سختی کی۔سرمایہ دارانہ لبرل اقدار خاندانوں کو جس انداز سے تباہ کر رہی ہے ، اسکی رفتار اور دائرہ کار تیزی سے پھیل رہا ہےاور تباہی مچا رہا ہے۔