انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بنگلہ دیشن کو باہر کرکے اپنی بھارت نوازی کا علانیہ اظہار کر دیا
شعور نیوز( انٹرنیشنل ڈیسک):انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بنگلہ دیش کو ٹی 20 ورلڈ کپ کرکٹ سے باہر کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ۔بنگلہ دیش کو اس وجہ سے آئی سی سی کے اشتہارات کے حصے سے ملنے والے کوئی 27 ملین ڈالر کی رقم نہیں مل سکے گی لیکن اُس کی قومی غیرت و حمیت بہر حال فروخت نہیں ہو سکی۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اب بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا جائے گا۔اسکاٹ لینڈ گروپ سی میں بنگلہ دیش کی جگہ لے گا جہاں پہلے ہی انگلینڈ، اٹلی، نیپال اور ویسٹ انڈیز شامل ہیں۔غیر جانبدار مبصرین انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اس دوہرے معیار کی مذمت کررہے ہیں کیونکہ سب جانتے ہیں کہ بھارت کی ٹیم کی سیکیورٹی کے معاملے میں اُن کے معاملات الگ رہتے ہیں۔ اب اگر بنگلہ دیش کو بھارت جیسے دہشت گرد ملک میں خطرہ لگ رہا ہے تو اُس کو متبادل جگہ دینے کے بجائے ٹورنامنٹ سے باہر کرکے آئی سی سی نے نان نیوٹرل پوزیشن ظاہرکر دی ہے۔ ویسے آئی سی سی میں سارے مرکزی عہدیدار سی ای او اور چیئرمین ہندو بلکہ ہندوستانی نژاد ہی ہیں۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بنگلہ دیش نے کھلاڑیوں کی سیکیورٹی کو بنیاد بناتے ہوئے ٹیم کو بھارت بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنے میچز کے وینیوز میں تبدیلی کی باضابطہ درخواست آئی سی سی کو دی تھی تاہم آئی سی سی کی جانب سے اس درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔آئی سی سی اس معاملے میں ’سیاسی مداخلت‘ کی بھی تحقیقات کر رہا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ بنگلہ دیش نے بھارت میں کرکٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ اپنی حکومت کے دباؤ پر کیا ہے، تو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی رکنیت بھی معطل کی جا سکتی ہے۔یہ بات صاف ظاہر ہےکہ بنگلہ دیش میں بھارت سے نفرت اور بھارت کے اندر ہندوتوا کی مسلمانوں اور بنگلہ دیشی مسلمانوں سے نفرت انتہائی سیاسی بنیادوں پر پھیلی ہوئی ہے ، اس کے باوجود آئی سی سی نے ایک جانبدارانہ فیصلہ دے کر اپنے قومی جذبات کی تسکین کی ہے۔