
جدیدیت
شریعت کی بے دخلی، جدید قانون کا غلبہ: نوآبادیاتی جدیدیت کا فیصلہ کن وار
شریعت کی بے دخلی، جدید قانون کا غلبہ: نوآبادیاتی جدیدیت کا فیصلہ کن وار- سلسلہ تفہیمِ فکرِ مغرب (لیکچر 01 قسط 12) The Displacement of Sharia: Modern Law’s Colonial Conquestجدیدیت (Modernity) کے نوآبادیاتی منصوبے کی سب سے بڑی کامیابی صرف سیاسی غلبہ نہیں تھی بلکہ اس کی ایک اہم ترین کامیابی یہ تھی کہ اس نے رفتہ رفتہ شریعت کی جگہ جدید قانون (Law) کو معاشرے کی واحد قانونی اتھارٹی کے طور پر قائم کر دیا، یہ تبدیلی صرف عدالتوں اور قوانین تک محدود نہیں تھی بلکہ اس نے مسلمانوں کے تصورِ عدل، تصورِ ریاست، تصورِ علم اور اجتماعی شعور کو بھی بدل دیا، اسی لئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جدید قانون نے شریعت کی جگہ آخر کیسے لی؟ اس سوال کا جواب سمجھنے سے پہلے ایک بنیادی حقیقت واضح ہونی چاہیے کہ شریعت اور جدید قانون ایک ہی چیز نہیں ہیں۔عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ شریعت بھی جدید قانون (Law) کی طرح ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ ایک مذہبی قانون ہے اور دوسرا سیکولر قانون حالانکہ یہ بات بالکل درست نہیں ہے، در حقیقت شریعت کو جدید مغربی تصورِ قانون کے سانچے میں رکھ کر سمجھنا ہی بنیادی غلطی ہے کیونکہ اس سے شریعت کی جامع حقیقت محدود ہو کر صرف قانونی ضابطوں تک سمٹ جاتی ہے، شریعت بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ کی ہدایت کا نام ہے جو انسان کی انفرادی، اجتماعی، اخلاقی، معاشی، سیاسی اور روحانی زندگی کو ایک وحدت، یعنی ایک دوسرے سے مربوط اور ہم آہنگ نظامِ زندگی کے طور پر منظم کرتی ہے، اس کا سرچشمہ وحی ہے، اس کے برعکس جدید قانون ریاست کا وضع کردہ ایسا ضابطہ ہے جس کا بنیادی مقصد ریاستی نظم کو برقرار رکھنا ہے اور اس کی بنیاد ریاستی اقتدار، پارلیمنٹ یا انسانی ارادے پر ہوتی ہے ۔یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ ہماری بحث اس بات پر نہیں کہ جدید قانون میں اچھے یا مصلحت پر مبنی قوانین موجود ہیں یا نہیں بلکہ اصل بحث یہ ہے کہ قانون کو جواز (Legitimacy) کہاں سے حاصل ہوتا ہے، جدید قانونی نظام میں اگر حقوقِ فطرت (Natural Law) یا انسانی حقوق کو تسلیم بھی کیا جاتا ہے تو ان کی قانونی حیثیت اسی وقت تک برقرار رہتی ہے جب تک ریاست، آئین یا پارلیمنٹ انہیں تسلیم کیے رکھے، ریاست ہی یہ طے کرتی ہے کہ کون سا حق قانون کا درجہ پائے گا اور کون سا نہیں؟ اس کے برعکس اسلامی تصور میں ریاست خود شریعت کی پابند ہوتی ہے، نہ کہ شریعت ریاست کی ۔خلاصہ یہ کہ شریعت انسان کی پوری زندگی کےلئے جامع الٰہی ہدایت ہے جبکہ جدید قانون بنیادی طور پر ریاستی نظم و ضبط کا ایک محدود قانونی نظام ہے، اسی لئے شریعت کو جدید قانون کے مساوی قرار دینا بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ اس سے شریعت کی اصل وسعت، جامعیت اور حقیقت نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے، مزید یہ کہ شریعت اور جدید قانون کے درمیان فرق صرف مصدر کا نہیں بلکہ پورے تصورِ زندگی کا ہے، شریعت انسان کو اللہ تعالیٰ کا بندہ بناتی ہے، معاشرے کو الٰہی ہدایت کے تابع ایک اخلاقی و دینی اجتماعیت کی شکل دیتی ہے اور عدل کی بنیاد اس اصول پر رکھتی ہے کہ وحی کی روشنی میں ہر صاحبِ حق کو اس کا حق دیا جائے، اس کے برعکس جدید قانون انسان کو بنیادی طور پر ریاست کا تابع شہری اور معاشرے کو ریاست کے زیرِ انتظام ایک قانونی ڈھانچے کے طور پر دیکھتا ہے، اسی طرح اس میں عدل کا معیار بھی یہ بن جاتا ہے کہ جو کچھ ریاستی قانون درست قرار دے، وہی عادلانہ ہے، خواہ وہ قانون وحی، اخلاق اور انسانی فطرت سے متصادم ہی کیوں نہ ہو، یوں حق اور باطل کا فیصلہ بھی بالآخر ریاستی قانون کے تابع ہو جاتا ہے جبکہ شریعت میں خود قانون حق اور عدل کا پابند ہوتا ہے، نہ کہ حق اور عدل قانون کے تابع۔ اس لیے دونوں کے درمیان فرق صرف ”خدائی قانون“ اور ”ریاستی قانون“ کا نہیں بلکہ اس بنیادی سوال کا ہے کہ انسان کون ہے؟ معاشرہ کس بنیاد پر قائم ہوگا؟ عدل کا معیار کیا ہوگا؟ اقتدارِ اعلیٰ کس کا ہوگا؟ اور قانون بنانے اور اس کی مشروعیت کا آخری سرچشمہ کون ہوگا؟ اب سوال یہ ہے کہ مسلم دنیا میں شریعت کی جگہ جدید قانون نے کس طرح حاصل کی؟ پہلا مرحلہ: قانونی اداروں پر قبضہ اس عمل کا پہلا مرحلہ عدالتی اور قانونی اداروں پر قبضہ تھا، نوآبادیاتی دور سے پہلے مسلم معاشروں میں عدل و قضا کا پورا نظام شریعت کے تابع تھا، قاضی کا منصب محض ریاستی ملازمت نہیں بلکہ ایک دینی ذمہ داری تھا، فقہ، فتویٰ، عرف، مقاصدِ شریعت اور اہلِ علم کی صدیوں پر محیط فقہی روایت مل کر نظامِ عدل تشکیل دیتی تھی، دوسرے الفاظ میں عدالت کی اصل اتھارٹی ریاست نہیں بلکہ شریعت تھی اور ریاست بھی اسی کی پابند سمجھی جاتی تھی، استعمار نے اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ جب تک عدالتیں شریعت کے تابع رہیں گی، مسلم معاشرہ فکری طور پر اس کے قبضے میں نہیں آ سکتا، اسی لئے اس نے سب سے پہلے عدالتی ڈھانچے کو اپنے کنٹرول میں لیا، برصغیر میں برطانوی حکومت نے نئی عدالتیں، نئے ضابطے، نئے جج اور نئے قانونی طریقۂ کار متعارف کرائے، جن میں فیصلہ کن حیثیت فقہ اور شریعت کی نہیں بلکہ ریاست کے بنائے ہوئے قانون کی تھی، ابتدا میں یہ تبدیلی محدود دائرے میں دکھائی دی لیکن آہستہ آہستہ عدالتوں سے شریعت کی بالادستی ختم ہوتی گئی اور اس کی جگہ ریاستی قانون نے لے لی، یہ صرف اداروں کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ حاکمیت کی تبدیلی تھی، پہلے عدالتیں شریعت کی نمائندہ تھیں، اب وہ ریاستی قانون کی نمائندہ بن گئیں، گویا عدل کا سرچشمہ وحی کے بجائے ریاست کو بنا دیا گیا اور یہی وہ پہلا فیصلہ کن قدم تھا جس نے جدید قانون کو شریعت کی جگہ کھڑا کرنے کی راہ ہموار کی، گویا اصل تبدیلی عدالت کی عمارت، جج یا عدالتی طریقہ کار کی نہیں تھی، بلکہ اس اتھارٹی کی تھی جس کے نام پر فیصلہ صادر ہوتا تھا، یہی نوآبادیاتی منصوبے کا پہلا اور فیصلہ کن وار تھا ۔دوسرا مرحلہ: شریعت کو زندگی کے مرکز سے ہٹا کر محدود کر دینا نوآبادیاتی منصوبہ صرف اتنا نہیں تھا کہ عدالتوں میں نئے قوانین نافذ کر دیے جائیں بلکہ اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ شریعت کو انسانی زندگی کے جامع نظام کے بجائے صرف چند مذہبی اور شخصی معاملات تک محدود کر دیا جائے، چنانچہ ابتدا میں بعض معاملات کو ریاستی قوانین کے تابع کیا گیا، پھر آہستہ آہستہ فوجداری، مالی، تجارتی، انتظامی اور سیاسی شعبے مکمل طور پر نوآبادیاتی قانون کے سپرد کر دیے گئے، یہاں تک کہ شریعت عملی طور پر صرف نکاح، طلاق، وراثت اور چند خاندانی مسائل تک محدود ہو کر رہ گئی، اسی مقصد کےلئے جدید ریاست نے انسانی زندگی کو دو الگ دائروں میں تقسیم کر دیا، نجی (Private) اور عوامی (Public) مذہب، عبادات اور خاندانی زندگی کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دیا گیا جبکہ سیاست، معیشت، عدالت، تعلیم اور ریاستی نظم کو مذہب سے الگ ایک خالص عوامی دائرہ بنا دیا گیا۔ اس تقسیم کا نتیجہ یہ نکلا کہ شریعت، جو پہلے پوری اجتماعی زندگی کی رہنما تھی، رفتہ رفتہ زندگی کے ایک محدود گوشے تک سمٹ گئی، اس طرح شریعت کو ختم نہیں کیا گیا بلکہ اسے زندگی کے مرکز سے ہٹا کر زندگی کے ایک محدود گوشے تک محدود کر دیا گیا ۔تیسرا مرحلہ: مسلمانوں کے ذہنی اور علمی شعور کو بدل دینا عدالتوں پر قبضہ اور شریعت کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کرنے کے بعد نوآبادیاتی جدیدیت کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ اس نے آہستہ آہستہ مسلمانوں کے ذہنی اور علمی شعور کو بھی بدل دیا۔ یہ تبدیلی کسی ایک فرمان یا ایک قانون کے ذریعے نہیں آئی، بلکہ نوآبادیاتی تعلیم، عدالتی نظام، ریاستی اداروں، قانونی زبان اور مسلسل فکری تربیت کے ذریعے رفتہ رفتہ مسلمانوں کے ذہن میں یہ تصور راسخ کر دیا گیا کہ اجتماعی زندگی کی اصل بنیاد شریعت نہیں بلکہ ریاستی قانون ہے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں نوآبادیاتی غلبہ صرف سیاسی یا انتظامی نہ رہا بلکہ فکری اور تہذیبی غلبے میں تبدیل ہوگیا اور یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی تھی، چنانچہ پہلے ہر نئے مسئلے میں سوال یہ اٹھتا تھا کہ ”شریعت کیا کہتی ہے؟“ لیکن رفتہ رفتہ یہ سوال بدل کر ”قانون کیا کہتا ہے؟“ بن گیا، بظاہر یہ صرف الفاظ کی تبدیلی معلوم ہوتی ہے مگر حقیقت میں یہی پورے تہذیبی انقلاب کی علامت تھی کیونکہ اب وحی کے بجائے ریاستی قانون کو فیصلے کی آخری اتھارٹی سمجھا جانے لگا، اسی ذہنی تبدیلی کے ساتھ عدل کا تصور بھی بدل گیا، اسلامی فقہ میں عدل اصل مقصد تھا اور قانون اس مقصد تک پہنچنے کا ذریعہ لیکن جدید ریاست میں قانون ہی عدل کا معیار بن گیا، اب کسی فیصلے کے درست ہونے کی دلیل یہ نہیں رہی کہ وہ حق اور انصاف پر مبنی ہے بلکہ یہ بن گئی کہ وہ ریاستی قانون کے مطابق ہے۔ یوں حق، عدل اور اخلاق کی جگہ قانونی جواز (Legal Validity) نے لے لی، اسی لئے آج اگر کوئی قانون انسانی فطرت، مذہبی اقدار یا اخلاقی اصولوں سے متصادم بھی ہو، تب بھی محض پارلیمنٹ یا ریاست کی منظوری اسے قانونی حیثیت دے دیتی ہے جبکہ شریعت میں خود قانون حق اور عدل کا پابند ہوتا ہے، نہ کہ حق اور عدل قانون کے تابع، اسی ذہنی تبدیلی کے ساتھ مسلمانوں کی قانونی زبان بھی بدل گئی۔فقہ، اجتہاد، فتویٰ، قضا، حسبہ اور عرف جیسے تصورات پس منظر میں چلے گئے اور ان کی جگہ آئین، پارلیمنٹ، قانون سازی، بنیادی حقوق، لیگل سسٹم اور رول آف لا جیسی اصطلاحات نے لے لی، الفاظ کے بدلنے کے ساتھ سوچنے کا پورا زاویۂ نگاہ بھی تبدیل ہو گیا ۔یوں نوآبادیاتی جدیدیت کی اصل کامیابی یہ نہیں تھی کہ اس نے عدالتوں میں نئے قوانین نافذ کیے، بلکہ یہ تھی کہ اس نے مسلم معاشروں میں آہستہ آہستہ ایسا قانونی اور فکری ماحول پیدا کر دیا جس میں اجتماعی زندگی کی اصل اتھارٹی شریعت کے بجائے ریاستی قانون کو سمجھا جانے لگا۔کسی تہذیب کی اصل شناخت اس کے معیارِ حق، معیارِ عدل اور قانون کے سرچشمے سے ہوتی ہے۔ جب یہ بنیادیں بدل جائیں تو صرف قوانین نہیں بدلتے بلکہ پوری تہذیب کا فکری رخ بدل جاتا ہے۔ نوآبادیاتی جدیدیت کا اصل کارنامہ بھی یہی تھا کہ اس نے مسلم معاشروں میں یہی بنیادی تبدیلی پیدا کی، اور یہی اس کا سب سے فیصلہ کن وار ثابت ہوا ۔ افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: مولانا محمد ثاقب
افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: مولانا محمد ثاقب
0تصدیقات