
لبرلزم, سیکولرزم
پاپولزم۔۔۔ ایک نیا سیاسی نظام؟
پاپولزم۔۔۔ ایک نیا سیاسی نظام؟ آج دنیا بھر میں جس سیاسی لہر کو سب سے زیادہ خطرناک سمجھا جارہا ہے، وہ Populism ہے۔ یہی Populism اس وقت لبرلزم کے لیے سب سے بڑی خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے، کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ Populism ہی وہ سیاسی طاقت ہے جس نے کئی بڑے بڑے سیاسی نظاموں کو شکست دی ہے۔سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ Populism کیا ہے؟ Populism دراصل ایک سیاسی Strategy ہے، ایک سیاسی حکمت عملی۔ کوئی بھی گروہ جب کسی خاص نظریے، سیاسی نظام یا حکومت کو لانا چاہتا ہے تو وہ اس مقصد کے لیے Populism کا استعمال کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جب انقلاب فرانس کے بعد یورپ میں لبرلزم کو مسلط کیا جارہا تھا تو اس وقت خود لبرلزم ایک populist movement تھی۔ یہ تحریک چرچ، بادشاہت اور orthodoxy کے خلاف کھڑی ہوئی تھی۔ اسی طرح جنوبی امریکہ میں جب کمیونزم کو مسلط کیا گیا تو وہ بھی ایک populist movement تھی۔ اس لیے آسان الفاظ میں Populism موجودہ نظام کے خلاف ایک سیاسی حکمت عملی ہوتی ہے۔کسی بھی populist leader میں بہت سی خوبیاں ہوسکتی ہیں، لیکن تین خصوصیات تقریباً ہر populist leader میں مشترک ہوتی ہیں۔پہلی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ ایک populist leader لوگوں کو دو گروہوں میں تقسیم کردیتا ہے۔ ایک طرف ظالم طبقہ ہوتا ہے، جس میں حکومت وقت، سیاست دان، اشرافیہ، اسٹیبلشمنٹ اور ریاستی ادارے شامل ہوتے ہیں۔ وہ عوام کو یہ باور کراتا ہے کہ یہ لوگ ظالم ہیں، یہ عام عوام پر ظلم کرتے ہیں، ان کا پیسہ کھاتے ہیں، انہوں نے پورے نظام کو کرپٹ بنادیا ہے، یہ نظام کرپٹ ہے، یہ میڈیا کرپٹ ہے، بکا ہوا ہے۔ پھر وہ خود کو اکیلا نجات دہندہ بنا کر پیش کرتا ہے کہ اس نظام کو درست کرنے والا صرف میں ہوں، میں اکیلا ہی اس نظام کو درست کرسکتا ہوں، چاہے وہ خود کتنا ہی بڑا کرپٹ انسان کیوں نہ ہو۔دوسری خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ populist leaders ملک میں موجود ہر مسئلے کو اس انداز سے استعمال کرتے ہیں کہ معاشرے میں بغاوت کی کیفیت پیدا ہوجائے اور لوگ سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکل آئیں۔ وہ مسائل کو صرف حل کرنے کے لیے نہیں اٹھاتے بلکہ ان مسائل کو ایک جذباتی سیاسی تحریک میں بدل دیتے ہیں۔تیسری خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ آپ ان populist leaders سے کبھی بھی intellectual یعنی گہری عقل و فکر والی باتیں نہیں سنیں گے۔ یہ ہمیشہ short اور sharp جملے بولتے ہیں، کیونکہ ان کا target عام عوام ہوتی ہے۔ انہیں عام عوام کو ابھارنا ہوتا ہے، اس لیے یہ زیادہ تر عوامی باتیں کرتے ہیں، مختصر نعرے لگاتے ہیں اور جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگلا سیاسی نظام کون سا ہوگا؟ اس وقت پورے یورپ میں Populism میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ یورپ کے کئی ممالک میں populist حکومتیں آنا شروع ہوگئی ہیں اور populist political parties مضبوط ہوتی جارہی ہیں۔اس وقت ہنگری کا Prime Minister ایک populist leader ہے۔اسی طرح 2024 میں آسٹریا کے elections کے دوران opposition party، FPO، آسٹریا کی سب سے زیادہ مضبوط سیاسی party بن کر سامنے آئی ہے، اور یہ بھی ایک populist party ہے۔حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ جس ملک سے لبرلزم کی شروعات ہوئی تھی، آج وہی ملک یعنی فرانس دنیا کا دوسرا بڑا populist ملک بن چکا ہے۔ایسے ہی Switzerland بھی Populism کے لیے جنت بن چکا ہے۔ Georgia Meloni کی حکومت میں اٹلی میں بھی populist حکومت قائم ہوچکی ہے۔ اب اس فہرست میں پولینڈ بھی آچکا ہے، اور برطانیہ میں تو بہت پہلے ہی Populism کی شروعات ہوچکی ہے۔پورے یورپ میں Populism کا بڑھنا ہمیں صاف بتارہا ہے کہ لبرلزم زوال کا شکار ہوچکا ہے۔ Liberal democracy خطرے میں آچکی ہے۔ اور سب سے بڑا دھچکا Liberal democracy کو اس وقت لگا جب امریکہ کے 2024 elections میں Donald Trump ایک populist leader بن کر امریکہ کا صدر منتخب ہوا۔ Trump کے صدر بننے سے پہلے اور صدر بننے کے بعد کے بیانات سن کر واضح ہوجاتا ہے کہ liberalism is coming to its end، یعنی لبرلزم اپنے آخری دن گن رہا ہے۔اب اصل سوال یہ ہے: what to do next? آگے کیا کرنا ہے؟ لبرلزم کے زوال کے بعد جو خلا باقی رہ جائے گا، آخر اسے کس نے پُر کرنا ہے؟سوشلسٹ تو ابھی سے کام کرنا شروع کرچکے ہیں۔ BRICS Model، جو ابھی صرف ایک معاشی نظام پر بات کرتا ہے، اسے متعارف کروادیا گیا ہے۔ اس model میں China اور Russia دونوں شامل ہیں، اور باقی ممالک بھی جو اس میں شامل ہوں گے، وہ انہی دو ممالک کی policies پر آئیں گے۔ پاکستان میں بھی آہستہ آہستہ سوشلسٹ متحرک ہونا شروع ہوگئے ہیں، سوشلزم پر باتیں شروع ہوگئی ہیں۔ "جب لال لال لہرائے گا، جب ہوش ٹھکانے آئے گا، سرخ ہوگا سرخ ہوگا، ایشیا ہمارا سرخ ہوگا۔"اب سوال یہ ہے کہ ہم مسلمانوں نے کیا کرنا ہے؟ کیا ہم انہی دو binaries میں کھیلتے رہیں گے؟ کبھی secular liberalism، تو کبھی socialism اور communism؟ ہم اپنا اسلامی نظام کب لائیں گے؟یہ وقت ہے کہ ہم اپنے Islamic system کی طرف توجہ دینا شروع کریں۔ ہمارے پاس ہر وہ چیز ہے جو ایک international system، ایک international order بننے کے لیے چاہیے ہوتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے گھر پر دھیان دیں۔اسی وجہ سے The third option is the only option۔ تیسرا option یعنی اسلامی system ہی آخری option ہے۔
محمد احسان کاس
0تصدیقات